سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: النمل آیہ 42

27:42
فلما جاءت قيل اهاكذا عرشك قالت كانه هو واوتينا العلم من قبلها وكنا مسلمين ٤٢
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَـٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ ٤٢
فَلَمَّا
جَآءَتْ
قِیْلَ
اَهٰكَذَا
عَرْشُكِ ؕ
قَالَتْ
كَاَنَّهٗ
هُوَ ۚ
وَاُوْتِیْنَا
الْعِلْمَ
مِنْ
قَبْلِهَا
وَكُنَّا
مُسْلِمِیْنَ
۟
پھر جب وہ آئی تو (اس سے) کہا گیا کہ کیا اسی طرح کا ہے آپ کا تخت ؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی علم حاصل ہوچکا ہے اور ہم اسلام لا چکے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 27:42 سے 27:43 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 42 فَلَمَّا جَآءَ تْ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِط قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ ج ”چنانچہ اس نے اپنے تخت کو پہچان لیا۔ یعنی وہ واقعی ایک ذہین اور سمجھ دار عورت تھی۔ اس سے پہلے آیت 43 میں فاتح بادشاہوں کے بارے میں اس کا تبصرہ بھی اس کی ذہانت اور دانش مندی کا ثبوت ہے۔وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ”یعنی میرے تخت کا یہاں پہنچ جانا اب میرے لیے کوئی بہت بڑی حیرت کی بات نہیں۔ آپ علیہ السلام کا اللہ کے ہاں جو مقام و مرتبہ ہے اس کے بارے میں مجھے بہت پہلے ہی علم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے ہم مسلمان ہو کر آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔