سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النمل 27:33

27:33
قالوا نحن اولو قوة واولو باس شديد والامر اليك فانظري ماذا تامرين ٣٣
قَالُوا۟ نَحْنُ أُو۟لُوا۟ قُوَّةٍۢ وَأُو۟لُوا۟ بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ وَٱلْأَمْرُ إِلَيْكِ فَٱنظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ ٣٣
قَالُوْا
نَحْنُ
اُولُوْا
قُوَّةٍ
وَّاُولُوْا
بَاْسٍ
شَدِیْدٍ ۙ۬
وَّالْاَمْرُ
اِلَیْكِ
فَانْظُرِیْ
مَاذَا
تَاْمُرِیْنَ
۟
انہوں نے کہا : ہم طاقتور بھی ہیں اور زبردست جنگی صلاحیت والے بھی اور فیصلے کا اختیار تو آپ ہی کے پاس ہے چناچہ آپ خود دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 27:30 سے 27:33 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔