سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: النمل آیہ 32

27:32
قالت يا ايها الملا افتوني في امري ما كنت قاطعة امرا حتى تشهدون ٣٢
قَالَتْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَفْتُونِى فِىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ٣٢
قَالَتْ
یٰۤاَیُّهَا
الْمَلَؤُا
اَفْتُوْنِیْ
فِیْۤ
اَمْرِیْ ۚ
مَا
كُنْتُ
قَاطِعَةً
اَمْرًا
حَتّٰی
تَشْهَدُوْنِ
۟
اس نے کہا : اے سردارو ! میرے اس معاملے میں آپ لوگ مجھے مشورہ دیں۔ میں کسی معاملے میں بھی حتمی فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود نہ ہوں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 27:30 سے 27:33 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔