سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النمل 27:30

27:30
انه من سليمان وانه بسم الله الرحمان الرحيم ٣٠
إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَـٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٣٠
اِنَّهٗ
مِنْ
سُلَیْمٰنَ
وَاِنَّهٗ
بِسْمِ
اللّٰهِ
الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْمِ
۟ۙ
یہ (خ ط) سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 27:30 سے 27:33 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔