سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن النمل کی تفسیر، آیت 22

27:22
فمكث غير بعيد فقال احطت بما لم تحط به وجيتك من سبا بنبا يقين ٢٢
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍۢ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍۭ بِنَبَإٍۢ يَقِينٍ ٢٢
فَمَكَثَ
غَیْرَ
بَعِیْدٍ
فَقَالَ
اَحَطْتُّ
بِمَا
لَمْ
تُحِطْ
بِهٖ
وَجِئْتُكَ
مِنْ
سَبَاٍۭ
بِنَبَاٍ
یَّقِیْنٍ
۟
تو کچھ زیادہ دیر نہیں گزری (کہ ہدہد پہنچ گیا) تو اس نے کہا کہ میں نے وہ کچھ معلوم کیا ہے جو آپ کو معلوم نہیں اور میں آپ ؑ کے پاس قوم سبا سے متعلق یقینی معلومات لے کر آیا ہوں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 27:20 سے 27:26 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

سبا (Sabaeans) قدیم زمانہ کی ایک دولت مند قوم تھی۔ اس کا زمانہ 1100 ق م سے لے کر 115 ق م تک ہے۔ اس کا مرکز مارب (یمن) تھا۔ اس علاقہ میں آج بھی اس کے شاندار کھنڈر پائے جاتے ہیں۔حضرت سلیمان کے زمانہ میں یہاں ایک عورت (بلقیس) کی حکومت تھی۔ یہ لوگ سورج کی پرستش کرتے تھے۔ شیطان نے انھیں سکھایا کہ معبود وہی ہوسکتاہے جو سب سے زیادہ نمایاں ہو۔ سورج چوں کہ تمام دکھائی دینے والی چیزوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے اس ليے وہی اس قابل ہے کہ اس کو معبود سمجھا جائے اور اس کی پرستش کی جائے۔

ہدہد کے ذریعہ حضرت سلیمان کو قوم سبا کے بارے میں مفصل معلومات حاصل ہوئیں۔ یہ ہدہد غالباً آپ کی پرندوں کی فوج سے تعلق رکھتا تھا اور باقاعدہ تربیت یافتہ تھا۔