سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر النحل کی تفسیر، آیت 75

16:75
۞ ضرب الله مثلا عبدا مملوكا لا يقدر على شيء ومن رزقناه منا رزقا حسنا فهو ينفق منه سرا وجهرا هل يستوون الحمد لله بل اكثرهم لا يعلمون ٧٥
۞ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبْدًۭا مَّمْلُوكًۭا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَمَن رَّزَقْنَـٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًۭا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّۭا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُۥنَ ۚ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٧٥
ضَرَبَ
اللّٰهُ
مَثَلًا
عَبْدًا
مَّمْلُوْكًا
لَّا
یَقْدِرُ
عَلٰی
شَیْءٍ
وَّمَنْ
رَّزَقْنٰهُ
مِنَّا
رِزْقًا
حَسَنًا
فَهُوَ
یُنْفِقُ
مِنْهُ
سِرًّا
وَّجَهْرًا ؕ
هَلْ
یَسْتَوٗنَ ؕ
اَلْحَمْدُ
لِلّٰهِ ؕ
بَلْ
اَكْثَرُهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
اللہ ایک مثال دیتا ہے 1۔ ایک تو ہے غلام، جو دُوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ دُوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھُلے اور چھُپے خوب خرچ کرتا ہے۔ بتاوٴ ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟۔۔۔۔ الحمدُللہ2 مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو)نہیں جانتے۔3
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
مومن اور کافر میں فرق ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ کافر اور مومن کی مثال ہے۔‏“ پس ملکیت کے غلام سے مراد کافر اور اچھی روزی والے اور خرچ کرنے والے سے مراد مومن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس مثال سے بت کی اور اللہ تعالیٰ کی جدائی سمجھانا مقصود ہے کہ یہ اور وہ برابر کے نہیں۔ اس مثال کا فرق اس قدر واضح ہے جس کے بتانے کی ضرورت نہیں، اسی لیے فرماتا کہ تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے۔ اکثر مشرک بےعلمی پر تلے ہوئے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر4492