سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Tafsir Muyassar آل عمران کی تفسیر، آیت 161

3:161
وما كان لنبي ان يغل ومن يغلل يات بما غل يوم القيامة ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون ١٦١
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ١٦١
وَمَا
كَانَ
لِنَبِیٍّ
اَنْ
یَّغُلَّ ؕ
وَمَنْ
یَّغْلُلْ
یَاْتِ
بِمَا
غَلَّ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ۚ
ثُمَّ
تُوَفّٰی
كُلُّ
نَفْسٍ
مَّا
كَسَبَتْ
وَهُمْ
لَا
یُظْلَمُوْنَ
۟
اور کسی نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو وہ اپنی خیانت کی ہوئی چیز سمیت حاضر ہوگا قیامت کے دن پھر ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کچھ اس نے کمایا ہوگا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
وما كان لنبيٍّ أن يَخُونَ أصحابه بأن يأخذ شيئًا من الغنيمة غير ما اختصه الله به، ومن يفعل ذلك منكم يأت بما أخذه حاملا له يوم القيامة; ليُفضَح به في الموقف المشهود، ثم تُعطى كل نفس جزاءَ ما كسبت وافيًا غير منقوص دون ظلم.