سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن القيامة کی تفسیر، آیت 38

75:38
ثم كان علقة فخلق فسوى ٣٨
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةًۭ فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ٣٨
ثُمَّ
كَانَ
عَلَقَةً
فَخَلَقَ
فَسَوّٰى
۟ۙ
پھر وہ ایک علقہ بنا پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 38{ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً } ”پھر وہ ایک علقہ بنا“ یعنی پانی کی اس بوند نے جونک جیسی شکل اختیار کرلی جو رحم مادر کی دیوار کے ساتھ چمٹی رہی۔ { فَخَلَقَ فَسَوّٰی۔ } ”پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔“ اللہ تعالیٰ نے علقہ کو گوشت کے لوتھڑے مضغہ میں تبدیل کیا اور پھر اس کا جسم بنایا ‘ جس میں آنکھیں ‘ ناک ‘ کان اور اپنی اپنی جگہ پر دوسرے تمام اعضاء بنا دیے۔ اور یہ سب کچھ ہوتا رہا : { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط } الزمر : 6 شکم مادر کے تین پردوں کے اندر۔