سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن القيامة کی تفسیر، آیت 37

75:37
الم يك نطفة من مني يمنى ٣٧
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةًۭ مِّن مَّنِىٍّۢ يُمْنَىٰ ٣٧
اَلَمْ
یَكُ
نُطْفَةً
مِّنْ
مَّنِیٍّ
یُّمْنٰى
۟ۙ
کیا وہ حقیر پانی کی ایک بوند نہیں تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکائی جاتی ہے ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 75:36 سے 75:37 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 36{ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی۔ } ”کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟“ کیا یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں ؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا اور ان کا حساب کتاب نہیں ہوگا ؟ اور انہیں ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا ؟