سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القيامة 75:25

75:25
تظن ان يفعل بها فاقرة ٢٥
تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌۭ ٢٥
تَظُنُّ
اَنْ
یُّفْعَلَ
بِهَا
فَاقِرَةٌ
۟ؕ
ان کو یقین ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے و الا ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 75:25 سے 75:26 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 25{ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”ان کو یقین ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے و الا ہے۔“ اس کے بعد اب قیامت صغریٰ یعنی انسان کی موت کے وقت کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے۔ قیامت کبریٰ کا ذکر تو قبل ازیں ان آیات میں آچکا ہے : { فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ - وَخَسَفَ الْقَمَرُ H…}۔ لیکن انفرادی سطح پر تو ہر انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہے۔ اسی لیے قیامت کبریٰ کے مقابلے میں ہر انسان کی موت کو اس کی ”قیامت صغریٰ“ کہا جاتا ہے۔ چناچہ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر انسان کو اپنی ’ قیامت صغریٰ ‘ کا تصور اپنے ذہن میں مستحضر رکھنا چاہیے۔