سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

فی ظلال القرآن القيامة کی تفسیر، آیت 13

75:13
ينبا الانسان يوميذ بما قدم واخر ١٣
يُنَبَّؤُا۟ ٱلْإِنسَـٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ١٣
یُنَبَّؤُا
الْاِنْسَانُ
یَوْمَىِٕذٍۭ
بِمَا
قَدَّمَ
وَاَخَّرَ
۟ؕ
اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

ینبؤ ................ واخر (75:13) ” اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا “۔ یعنی وہ اعمال جو اس نے اپنی وفات سے پہلے کہے اور وہ آثار جو اس نے مرنے کے بعد چھوڑے۔ خواہ اچھے آثار ہوں یا برے آثار ہوں کیونکہ انسان کے بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جن کے آثار باقی رہتے ہیں اور وہ اس کے اعمال میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔

پھر وہاں انسان جو عذرات بھی پیش کرے گا ، اس کا کوئی عذر بھی قبول نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ نفس انسانی کو اللہ نے خیروشر کی ہدایت کردی ہے۔ اگر نفس انسان کو خیر تک لے جائے تو اچھا انجام ہوگا اور اگر شر تک لے جائے تو اس کا محاسہ ہوگا۔