سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن القصص کی تفسیر، آیت 84

28:84
من جاء بالحسنة فله خير منها ومن جاء بالسيية فلا يجزى الذين عملوا السييات الا ما كانوا يعملون ٨٤
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٨٤
مَنْ
جَآءَ
بِالْحَسَنَةِ
فَلَهٗ
خَیْرٌ
مِّنْهَا ۚ
وَمَنْ
جَآءَ
بِالسَّیِّئَةِ
فَلَا
یُجْزَی
الَّذِیْنَ
عَمِلُوا
السَّیِّاٰتِ
اِلَّا
مَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
جو کوئی بھَلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھَلائی ہے، اور جو بُرائی لے کر آئے تو بُرائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:83 سے 28:84 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

جنت کی آبادی میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کے سینے اپنی بڑائی کے احساس سے خالی ہوں جو خدا کی بڑائی کو اس طرح پائیں کہ اپنی طرف انھیں چھوٹائی کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔

فساد یہ ہے کہ آدمی خدا کی اسکیم سے موافقت نہ کرے۔ وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف چلنے لگے۔ جو لوگ کبر سے خالی ہوجائیں وہ لازمی طور پر فساد سے بھی خالی ہوجاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ اوصاف پیدا ہوجائیں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے ابدی باغوں میں بسا ئے جائیں گے۔