سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القصص 28:8

28:8
فالتقطه ال فرعون ليكون لهم عدوا وحزنا ان فرعون وهامان وجنودهما كانوا خاطيين ٨
فَٱلْتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّۭا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَـٰمَـٰنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا۟ خَـٰطِـِٔينَ ٨
فَالْتَقَطَهٗۤ
اٰلُ
فِرْعَوْنَ
لِیَكُوْنَ
لَهُمْ
عَدُوًّا
وَّحَزَنًا ؕ
اِنَّ
فِرْعَوْنَ
وَهَامٰنَ
وَجُنُوْدَهُمَا
كَانُوْا
خٰطِـِٕیْنَ
۟
تو اسے اٹھا لیا فرعون کے گھر والوں نے تاکہ وہ بن جائے ان کے لیے دشمن اور پریشانی (کا باعث) یقیناً فرعون ہامان اور ان کے سب لشکر (اپنی تدبیر میں) خطاکار تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:7 سے 28:9 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت موسیٰ کی پیدائش کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے لڑکے ہلاک کيے جارہے تھے۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوئیں۔ اس وقت غالباً خواب کے ذریعہ آپ کی والدہ کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ آپ کو ایک چھوٹی کشتی میںرکھ کردریائے نیل میں ڈال دیں۔ انھوں نے تین ماہ بعد ایسا ہی کیا۔ یہ چھوٹی کشتی بہتے ہوئے فرعون کے محل کے سامنے پہنچی۔ فرعون کی بیوی (آسیہ) ایک نیک بخت خاتون تھیں۔ان کو حضرت موسیٰ کے معصوم اور پرکشش حلیہ کو دیکھ کر رحم آگیا۔ چنانچہ ان کے مشورہ پر حضرت موسیٰ فرعون کے محل میں رکھ ليے گئے۔

روایات میںآتا ہے کہ فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ بچہ آنکھ کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے جواب دیا کہ تمھارے ليے ہے، نہ کہ میرے ليے (لَکِ لا لِی)۔ یہ بات غالباً فرعون نے مرد اور عورت کے فرق پر کہی ہوگی مگر بعد کو وہ عین واقعہ بن گئی۔