سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: القصص آیہ 79

28:79
فخرج على قومه في زينته قال الذين يريدون الحياة الدنيا يا ليت لنا مثل ما اوتي قارون انه لذو حظ عظيم ٧٩
فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ فِى زِينَتِهِۦ ۖ قَالَ ٱلَّذِينَ يُرِيدُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا يَـٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ أُوتِىَ قَـٰرُونُ إِنَّهُۥ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍۢ ٧٩
فَخَرَجَ
عَلٰی
قَوْمِهٖ
فِیْ
زِیْنَتِهٖ ؕ
قَالَ
الَّذِیْنَ
یُرِیْدُوْنَ
الْحَیٰوةَ
الدُّنْیَا
یٰلَیْتَ
لَنَا
مِثْلَ
مَاۤ
اُوْتِیَ
قَارُوْنُ ۙ
اِنَّهٗ
لَذُوْ
حَظٍّ
عَظِیْمٍ
۟
پھر (ایک دن) وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ باٹھ میں کہا ان لوگوں نے جو خواہش مند تھے دنیا ہی کی زندگی کے کہ کاش یہ سب کچھ ہمارے لیے بھی ہوتا جو قارون کو ملا ہے یقیناً وہ بہت بڑے نصیب والا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:79 سے 28:80 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

جس آدمی کے پاس دولت ہو اس کے گرد لازمی طورپر دنیا کی رونق جمع ہوجاتی ہے۔ اس کو دیکھ کر بہت سے نادان لوگ اس کے اوپر رشک کرنے لگتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کو حقیقت کا علم حاصل ہوجائے ان کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ یہ محض چند دن کی رونق ہے اور جو چیز چند روزہ ہو اس کی کوئی قیمت نہیں۔

علمِ حقیقت اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مگر علمِ حقیقت کا مالک بننے کےلیے صبر کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ یعنی خارجی حالات کادباؤ قبول نہ کرتے ہوئے اپنا ذہن بنانا۔ظاہری چیزوں سے غیر متاثر رہ کر سوچنا۔ وقتی کشش کی چیز کو نظر انداز کرکے رائے قائم کرنا۔ یہ بلاشبہ صبر کی مشکل ترین قسم ہے، مگر اسی مشکل ترین امتحان میں پورا اترنے کے بعد آدمی کو وہ چیز ملتی ہے جس کو علم اور حکمت کہا جاتا ہے۔