سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: القصص آیہ 68

28:68
وربك يخلق ما يشاء ويختار ما كان لهم الخيرة سبحان الله وتعالى عما يشركون ٦٨
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخْتَارُ ۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ ۚ سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ٦٨
وَرَبُّكَ
یَخْلُقُ
مَا
یَشَآءُ
وَیَخْتَارُ ؕ
مَا
كَانَ
لَهُمُ
الْخِیَرَةُ ؕ
سُبْحٰنَ
اللّٰهِ
وَتَعٰلٰی
عَمَّا
یُشْرِكُوْنَ
۟
اور آپ ﷺ کا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور منتخب کرلیتا ہے (جسے چاہتا ہے) (جبکہ) ان کو کچھ بھی اختیار نہیں۔ اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:68 سے 28:70 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرتاہے۔ پھر انسانوں میں سے کسی شخص کو وہ کسی خاص کام کےلیے منتخب کرلیتا ہے۔ یہ انتخاب اس کے ذاتی تقدس کی بناپر نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کے اپنے فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ اس ليے ایسی شخصیتوں کو مقدس مان کر ان کو خدا کا درجہ دینا سراسر بے بنیاد ہے۔ خدا کی دنیا میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

آدمی حق کا انکار کرنے کے لیے زبان سے کچھ الفاظ بول دیتاہے۔ مگر اس کے دل میں کچھ اور بات ہوتی ہے۔ وہ ذاتی مصلحتوں کی بنا پر حق کو نہیں مانتا اور الفاظ کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دلیل اور معقولیت کی بنا پر اس کا انکار کر رہا ہے۔ آخرت میں یہ پردہ باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت کھلے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس کے دل میں کچھ اور تھا مگر اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ کچھ دوسرے الفاظ بولتارہا۔