سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: القصص آیہ 64

28:64
وقيل ادعوا شركاءكم فدعوهم فلم يستجيبوا لهم وراوا العذاب لو انهم كانوا يهتدون ٦٤
وَقِيلَ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُمْ وَرَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ۚ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَهْتَدُونَ ٦٤
وَقِیْلَ
ادْعُوْا
شُرَكَآءَكُمْ
فَدَعَوْهُمْ
فَلَمْ
یَسْتَجِیْبُوْا
لَهُمْ
وَرَاَوُا
الْعَذَابَ ۚ
لَوْ
اَنَّهُمْ
كَانُوْا
یَهْتَدُوْنَ
۟
اور ان سے کہا جائے گا کہ اب تم پکارو اپنے شریکوں کو تو وہ انہیں پکاریں گے لیکن وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور وہ دیکھ لیں گے عذاب کو کاش وہ ہدایت پائے ہوئے ہوتے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:63 سے 28:65 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 63 قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا ج ”وہ مشرکین جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ صادر ہوجائے گا ‘ آخری عذر کے طور پر اپنے لیڈروں کی طرف اشارہ کریں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ اگر یہ ہمیں گمراہ نہ کرتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے ! ان لیڈروں میں ان کے معبودان باطل ‘ شیاطینِ جنّ و انس ‘ طاغوت اور گمراہ مذہبی و سیاسی راہنما شامل ہوں گے۔ یہ لیڈر جھٹ جواب دیں گے کہ جو کچھ ہم خود تھے وہی ہم نے ان کو بنایا۔اَغْوَیْنٰہُمْ کَمَا غَوَیْنَا ج ”یعنی ہم خود ہدایت پر ہوتے تو انہیں ہدایت کا رستہ دکھاتے۔ ہم چونکہ خود گمراہ تھے اس لیے ہمارے زیر اثر یہ تمام لوگ گمراہ ہوتے چلے گئے۔تَبَرَّاْنَآ اِلَیْکَز مَا کَانُوْٓا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ ”یعنی یہ ہمارے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔ ہم پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ یہ اپنی آزاد مرضی سے ہماری باتیں مانتے رہے ہیں۔