سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القصص 28:60

28:60
وما اوتيتم من شيء فمتاع الحياة الدنيا وزينتها وما عند الله خير وابقى افلا تعقلون ٦٠
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَىْءٍۢ فَمَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ٦٠
وَمَاۤ
اُوْتِیْتُمْ
مِّنْ
شَیْءٍ
فَمَتَاعُ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
وَزِیْنَتُهَا ۚ
وَمَا
عِنْدَ
اللّٰهِ
خَیْرٌ
وَّاَبْقٰی ؕ
اَفَلَا
تَعْقِلُوْنَ
۟۠
اور جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ بس دنیوی زندگی کا سامان اور اس کی زیب وزینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 60 وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُہَا ج ”اس سے یہ نکتہ انسان کو خود بخود سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح دنیا کی یہ زندگی عارضی ہے اسی طرح اس سے متعلقہ ہر قسم کا سازوسامان بھی عارضی ہے۔