سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: القصص آیہ 50

28:50
فان لم يستجيبوا لك فاعلم انما يتبعون اهواءهم ومن اضل ممن اتبع هواه بغير هدى من الله ان الله لا يهدي القوم الظالمين ٥٠
فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَكَ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَآءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيْرِ هُدًۭى مِّنَ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٥٠
فَاِنْ
لَّمْ
یَسْتَجِیْبُوْا
لَكَ
فَاعْلَمْ
اَنَّمَا
یَتَّبِعُوْنَ
اَهْوَآءَهُمْ ؕ
وَمَنْ
اَضَلُّ
مِمَّنِ
اتَّبَعَ
هَوٰىهُ
بِغَیْرِ
هُدًی
مِّنَ
اللّٰهِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
لَا
یَهْدِی
الْقَوْمَ
الظّٰلِمِیْنَ
۟۠
پھر اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیں کہ یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی کر رہا ہو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر یقیناً اللہ ایسی ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:49 سے 28:51 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حق کے پیغام کو ماننے یا نہ ماننے کا جو اصل معیار ہے وہ یہ ہے کہ پیغام کو خود اس کے جوہر ذاتی کی بنیاد پر جانچا جائے۔ اگر وہ اپنی ذات میں برتر صداقت ہونا ثابت کررہا ہو تو یہی کافی ہے کہ اس کو مان لیا جائے۔ اس کے بعد ا س کو ماننے کے ليے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

صداقت کا جواب صداقت ہے۔ اگرآدمی صداقت کا انکار کرے اور اس کے جواب میں دوسری اعلیٰ تر صداقت نہ پیش کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہش پرستی کی وجہ سے اس کا انکار کررہا ہے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ صداقت کو معقولیت کے ذریعہ رد نہ کرسکیں اور پھر بھی خواہش اور تعصب کے زیر اثر اس کو نہ مانیں وہ بدترین گمراہ لوگ ہیں۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں ظالموں میں شمار ہوں گے۔