سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر القصص کی تفسیر، آیت 20

28:20
وجاء رجل من اقصى المدينة يسعى قال يا موسى ان الملا ياتمرون بك ليقتلوك فاخرج اني لك من الناصحين ٢٠
وَجَآءَ رَجُلٌۭ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ ٢٠
وَجَآءَ
رَجُلٌ
مِّنْ
اَقْصَا
الْمَدِیْنَةِ
یَسْعٰی ؗ
قَالَ
یٰمُوْسٰۤی
اِنَّ
الْمَلَاَ
یَاْتَمِرُوْنَ
بِكَ
لِیَقْتُلُوْكَ
فَاخْرُجْ
اِنِّیْ
لَكَ
مِنَ
النّٰصِحِیْنَ
۟
اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پَرلے سِرے سے دوڑتا ہوا آیا1 اور بولا ”موسیٰؑ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں۔“
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
گمنام ہمدرد ٭٭

اس آنے والے کو «رَجُلٌ» کہا گیا۔ عربی میں رجل کہتے ہیں قدموں کو۔ اس نے جب دیکھا کہ سپاہ موسیٰ علیہ السلام کے تعاقب میں جا رہی ہے تو یہ اپنے پاؤں پر تیزی سے دوڑا اور ایک قریب کے راستے سے نکل کر جھٹ سے آپ علیہ السلام کو اطلاع دے دی کہ یہاں کے امیر امراء آپ علیہ السلام کے قتل کے ارادے کر چکے ہیں آپ علیہ السلام شہر چھوڑ دیجئیے۔ میں آپ کا بہی خواہ ہوں میری مان لیجئے۔

صفحہ نمبر6552