سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القصص 28:13

28:13
فرددناه الى امه كي تقر عينها ولا تحزن ولتعلم ان وعد الله حق ولاكن اكثرهم لا يعلمون ١٣
فَرَدَدْنَـٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ١٣
فَرَدَدْنٰهُ
اِلٰۤی
اُمِّهٖ
كَیْ
تَقَرَّ
عَیْنُهَا
وَلَا
تَحْزَنَ
وَلِتَعْلَمَ
اَنَّ
وَعْدَ
اللّٰهِ
حَقٌّ
وَّلٰكِنَّ
اَكْثَرَهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟۠
تو یوں ہم نے اسے لوٹادیا اس کی والدہ کے پاس تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:10 سے 28:14 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے انداز میں ہوتا ہے، نہ کہ طلسمات اور خوارق کے انداز میں۔

حضرت موسیٰ بے بسی کی حالت میں دریا کی موجوں میں ڈالے گئے مگر وہ پوری طرح محفوظ رہ کر ساحل پر پہنچ گئے۔ بادشاہ وقت نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے اسی بادشاہ کے ذریعہ آپ کی پرورش کا انتظام کیا۔ وہ ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔