سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر المنافقون کی تفسیر، آیت 4

63:4
۞ واذا رايتهم تعجبك اجسامهم وان يقولوا تسمع لقولهم كانهم خشب مسندة يحسبون كل صيحة عليهم هم العدو فاحذرهم قاتلهم الله انى يوفكون ٤
۞ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِن يَقُولُوا۟ تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌۭ مُّسَنَّدَةٌۭ ۖ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۚ هُمُ ٱلْعَدُوُّ فَٱحْذَرْهُمْ ۚ قَـٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ٤
وَاِذَا
رَاَیْتَهُمْ
تُعْجِبُكَ
اَجْسَامُهُمْ ؕ
وَاِنْ
یَّقُوْلُوْا
تَسْمَعْ
لِقَوْلِهِمْ ؕ
كَاَنَّهُمْ
خُشُبٌ
مُّسَنَّدَةٌ ؕ
یَحْسَبُوْنَ
كُلَّ
صَیْحَةٍ
عَلَیْهِمْ ؕ
هُمُ
الْعَدُوُّ
فَاحْذَرْهُمْ ؕ
قٰتَلَهُمُ
اللّٰهُ ؗ
اَنّٰی
یُؤْفَكُوْنَ
۟
اِنہیں دیکھو تو اِن کے جُثّے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سُنتے رہ جاؤ۔ 1 مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کُندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چُن کر رکھ دیے گئے ہوں۔ 2 ہر روز کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ 3 یہ پکّے دشمن ہیں، 4 ان سے بچ کر رہو، 5 اللہ کی مار ان پر، 6 یہ کدھر اُلٹے پِھر ائے جا رہے ہیں۔ 7
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
علامات منافقین ٭٭

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”منافقوں کی بہت سی علامتیں ہیں جن سے وہ پہچان لیے جاتے ہیں ان کا سلام لعنت ہے، ان کی خوراک لوٹ مار ہے، ان کی غنیمت حرام اور خیانت ہے، وہ مسجدوں کی نزدیکی ناپسند کرتے ہیں، وہ نمازوں کے لیے آخری وقت آتے ہیں، تکبر اور نحوت والے ہوتے ہیں، نرمی اور سلوک تواضع اور انکساری سے محروم ہوتے ہیں، نہ خود ان کاموں کو کریں، نہ دوسروں کے ان کاموں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھیں رات کی لکڑیاں اور دن کے شور و غل کرنے والے اور روایت میں ہے دن کو خوب کھانے پینے والے اور رات کو خشک لکڑیوں کی طرح پڑ رہنے والے“ ۔ [مسند احمد:293/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9521