سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Tafsir Muyassar الممتحنة کی تفسیر، آیت 1

60:1
يا ايها الذين امنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم اولياء تلقون اليهم بالمودة وقد كفروا بما جاءكم من الحق يخرجون الرسول واياكم ان تومنوا بالله ربكم ان كنتم خرجتم جهادا في سبيلي وابتغاء مرضاتي تسرون اليهم بالمودة وانا اعلم بما اخفيتم وما اعلنتم ومن يفعله منكم فقد ضل سواء السبيل ١
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ عَدُوِّى وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَآءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِٱلْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا۟ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلْحَقِّ يُخْرِجُونَ ٱلرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ ۙ أَن تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ رَبِّكُمْ إِن كُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَـٰدًۭا فِى سَبِيلِى وَٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِى ۚ تُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِٱلْمَوَدَّةِ وَأَنَا۠ أَعْلَمُ بِمَآ أَخْفَيْتُمْ وَمَآ أَعْلَنتُمْ ۚ وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ١
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَا
تَتَّخِذُوْا
عَدُوِّیْ
وَعَدُوَّكُمْ
اَوْلِیَآءَ
تُلْقُوْنَ
اِلَیْهِمْ
بِالْمَوَدَّةِ
وَقَدْ
كَفَرُوْا
بِمَا
جَآءَكُمْ
مِّنَ
الْحَقِّ ۚ
یُخْرِجُوْنَ
الرَّسُوْلَ
وَاِیَّاكُمْ
اَنْ
تُؤْمِنُوْا
بِاللّٰهِ
رَبِّكُمْ ؕ
اِنْ
كُنْتُمْ
خَرَجْتُمْ
جِهَادًا
فِیْ
سَبِیْلِیْ
وَابْتِغَآءَ
مَرْضَاتِیْ
تُسِرُّوْنَ
اِلَیْهِمْ
بِالْمَوَدَّةِ ۖۗ
وَاَنَا
اَعْلَمُ
بِمَاۤ
اَخْفَیْتُمْ
وَمَاۤ
اَعْلَنْتُمْ ؕ
وَمَنْ
یَّفْعَلْهُ
مِنْكُمْ
فَقَدْ
ضَلَّ
سَوَآءَ
السَّبِیْلِ
۟
1 اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا جوئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے)نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔تم اُن کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس کو ماننے سے وہ انکار کر چکے ہیں اور اُن کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کو صرف اِس قصُور پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم چُھپا کر اُن کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو اعلانیہ کرتے ہو، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں۔ جو شخص بھی تم میں سے ایساکرے وہ یقیناً راہِ راست سے بھٹک گیا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
يا أيها الذين صدَّقوا الله ورسوله وعملوا بشرعه، لا تتخذوا عدوي وعدوكم خلصاء وأحباء، تُفْضون إليهم بالمودة، فتخبرونهم بأخبار الرسول صلى الله عليه وسلم، وسائر المسلمين، وهم قد كفروا بما جاءكم من الحق من الإيمان بالله ورسوله وما نزل عليه من القرآن، يخرجون الرسول ويخرجونكم -أيها المؤمنون- من «مكة» ؛ لأنكم تصدقون بالله ربكم، وتوحدونه، إن كنتم -أيها المؤمنون- هاجرتم مجاهدين في سبيلي، طالبين مرضاتي عنكم، فلا توالوا أعدائي وأعداءكم، تُفْضون إليهم بالمودة سرًّا، وأنا أعلم بما أخفيتم وما أظهرتم، ومن يفعل ذلك منكم فقد أخطأ طريق الحق والصواب، وضلَّ عن قصد السبيل.