سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المائدة 5:110

5:110
اذ قال الله يا عيسى ابن مريم اذكر نعمتي عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس في المهد وكهلا واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيية الطير باذني فتنفخ فيها فتكون طيرا باذني وتبري الاكمه والابرص باذني واذ تخرج الموتى باذني واذ كففت بني اسراييل عنك اذ جيتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ان هاذا الا سحر مبين ١١٠
إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَـٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱذْكُرْ نِعْمَتِى عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَٰلِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ تُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًۭا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ بِإِذْنِى فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِى ۖ وَتُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ بِإِذْنِى ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِى ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ ١١٠
اِذْ
قَالَ
اللّٰهُ
یٰعِیْسَی
ابْنَ
مَرْیَمَ
اذْكُرْ
نِعْمَتِیْ
عَلَیْكَ
وَعَلٰی
وَالِدَتِكَ ۘ
اِذْ
اَیَّدْتُّكَ
بِرُوْحِ
الْقُدُسِ ۫
تُكَلِّمُ
النَّاسَ
فِی
الْمَهْدِ
وَكَهْلًا ۚ
وَاِذْ
عَلَّمْتُكَ
الْكِتٰبَ
وَالْحِكْمَةَ
وَالتَّوْرٰىةَ
وَالْاِنْجِیْلَ ۚ
وَاِذْ
تَخْلُقُ
مِنَ
الطِّیْنِ
كَهَیْـَٔةِ
الطَّیْرِ
بِاِذْنِیْ
فَتَنْفُخُ
فِیْهَا
فَتَكُوْنُ
طَیْرًا
بِاِذْنِیْ
وَتُبْرِئُ
الْاَكْمَهَ
وَالْاَبْرَصَ
بِاِذْنِیْ ۚ
وَاِذْ
تُخْرِجُ
الْمَوْتٰی
بِاِذْنِیْ ۚ
وَاِذْ
كَفَفْتُ
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
عَنْكَ
اِذْ
جِئْتَهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ
فَقَالَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
مِنْهُمْ
اِنْ
هٰذَاۤ
اِلَّا
سِحْرٌ
مُّبِیْنٌ
۟
جب کہے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ؑ ابن مریم ذرا میرے ان انعامات کو یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوئے جبکہ میں نے تمہاری مدد کی روح القدس سے تم گفتگو کرتے تھے لوگوں کے ساتھ پنگھوڑے میں بھی اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور (یاد کرو میرے اس احسان کو) جب کہ میں نے تمہیں سکھائی کتاب اور حکمت یعنی تورات اور انجیل اور (یاد کرو) جب تم بناتے تھے گارے سے پرندے کی ایک شکل میرے حکم سے پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ ایک اڑنے والا پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے اور تم اچھا کردیتے تھے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور جب تم مردوں کو نکال کھڑا کرتے تھے میرے حکم سے اور (یاد کرو میرے اس احسان کو بھی) جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ روک دیے تم سے جب کہ تم آئے ان کے پاس کھلے معجزات کے ساتھ تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ نہیں ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

Among those prophets, there is the example of Jesus, who is an intermediate link between the earlier prophets and the last of the prophets. Jesus was given very special miracles to perform. Those who had embraced the faith through him were very few in number and his opponents, the Jews, enjoyed worldly power. In spite of this, they could not inflict any harm on him and were not successful in destroying his companions. The result of these miracles should have been that people should have accepted the religion brought by him. But what actually happened was that his opponents ignored him, saying that the miracles performed by him were merely feats of magic. On the contrary, those who embraced his faith later on gave him the status of a god. On Judgement Day, it will be made clear to those who claim to be his followers that whatever feats Jesus had performed were all done at God’s behest. It was God who saved him from the dangers presented by his opponents. When this was the true state of affairs and Jesus himself will testify to this, standing before them, then his people will have to explain who had given them the religion which they had wrongly attributed to Jesus.