سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: الجمعة آیہ 7

62:7
ولا يتمنونه ابدا بما قدمت ايديهم والله عليم بالظالمين ٧
وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُۥٓ أَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ ٧
وَلَا
یَتَمَنَّوْنَهٗۤ
اَبَدًا
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَیْدِیْهِمْ ؕ
وَاللّٰهُ
عَلِیْمٌۢ
بِالظّٰلِمِیْنَ
۟
اور (حقیقت یہ ہے کہ) یہ لوگ ہرگز کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنے ان اعمال کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ ان ظالموں سے خوب واقف ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 62:5 سے 62:8 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

خدا کی کتاب جب کسی قوم کو دی جاتی ہے تو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس کو اپنے اندر اتارے اور اس کو اپنی زندگی میں اپنائے۔ مگر جو قوم اس معنی میں کتاب آسمانی کی حامل نہ بن سکے اس کی مثال اس گدھے کی سی ہوگی جس کے اوپر علمی کتابیں لدی ہوئی ہوں اور اس کو کچھ خبر نہ ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے۔

یہود نے اگرچہ عملی طور پر خدا کے دین کو چھوڑ رکھا تھا، اس کے باوجود وہ اس کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے۔ مگر اس قسم کا فخر کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ ایسا فخر ہمیشہ جھوٹا فخر ہوتا ہے۔ اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آدمی جس دین کو اپنے فخر کا سامان بنائے ہوئے ہوتا ہے اس کے لیے وہ قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ تاہم جب موت آئے گی تو ایسے لوگ جان لیں گے کہ دنیا میں وہ جس فخر پر جی رہے تھے وہ آخرت میں انہیں ذلت کے سوا اور کچھ دینے والا نہیں۔