سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن الجمعة کی تفسیر، آیت 1

62:1
يسبح لله ما في السماوات وما في الارض الملك القدوس العزيز الحكيم ١
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ٱلْمَلِكِ ٱلْقُدُّوسِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ ١
یُسَبِّحُ
لِلّٰهِ
مَا
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَمَا
فِی
الْاَرْضِ
الْمَلِكِ
الْقُدُّوْسِ
الْعَزِیْزِ
الْحَكِیْمِ
۟
اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے۔۔۔۔ بادشاہ ہے، قُدُّوس ہے، زبردست اور حکیم ہے۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 62:1 سے 62:4 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

انسان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجنا خدا کی انہیں صفات کا انسانی سطح پر ظہور ہے جن صفات کا ظہور مادی اعتبار سے کائنات کی سطح پر ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کا کام خاص طور پر دو رہا ہے۔ ایک، خدا کی وحی کو لوگوں تک پہنچانا، دوسرا، لوگوں کے شعور کو بیدار کرنا تاکہ وہ خدائی باتوں کو سمجھیں اور اپنی حقيقی زندگی کے ساتھ ان کو مربوط کرسکیں۔ یہی دو کام آئندہ بھی دعوت و اصلاح کی جدوجہد میں مطلوب رہیں گے، یعنی تعلیم قرآن اور ذہنی تربیت۔