سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Ma'arif al-Qur'an الجن کی تفسیر، آیت 14

72:14
وانا منا المسلمون ومنا القاسطون فمن اسلم فاولايك تحروا رشدا ١٤
وَأَنَّا مِنَّا ٱلْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ تَحَرَّوْا۟ رَشَدًۭا ١٤
وَّاَنَّا
مِنَّا
الْمُسْلِمُوْنَ
وَمِنَّا
الْقٰسِطُوْنَ ؕ
فَمَنْ
اَسْلَمَ
فَاُولٰٓىِٕكَ
تَحَرَّوْا
رَشَدًا
۟
اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 72:13 سے 72:17 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

فَمَن يُؤْمِن بِرَ‌بِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَ‌هَقًا (...so if one believes in his Lord, he will have no fear of either any curtailment [ in his reward ] or any excess [ in his punishment ]...72:13). The ward bakhs, with ba' carrying fatha ] and kha' carrying sukun, means 'to reduce the right' and the word rahaq means 'disgrace'. In other words, anyone who believes in Allah need fear neither curtailment in the reward of his good deeds, nor disgrace by excess in his punishment in the Hereafter.