سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Tafsir Muyassar الإسراء کی تفسیر، آیت 5

17:5
فاذا جاء وعد اولاهما بعثنا عليكم عبادا لنا اولي باس شديد فجاسوا خلال الديار وكان وعدا مفعولا ٥
فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًۭا لَّنَآ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ فَجَاسُوا۟ خِلَـٰلَ ٱلدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًۭا مَّفْعُولًۭا ٥
فَاِذَا
جَآءَ
وَعْدُ
اُوْلٰىهُمَا
بَعَثْنَا
عَلَیْكُمْ
عِبَادًا
لَّنَاۤ
اُولِیْ
بَاْسٍ
شَدِیْدٍ
فَجَاسُوْا
خِلٰلَ
الدِّیَارِ
وَكَانَ
وَعْدًا
مَّفْعُوْلًا
۟
آخرِ کار جب اُن میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اُٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھُس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پُورا ہو کر ہی رہنا تھا۔1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
فإذا وقع منهم الإفساد الأول سَلَّطْنا عليهم عبادًا لنا ذوي شجاعة وقوة شديدة، يغلبونكم ويقتلونكم ويشردونكم، فطافوا بين ديارهم مفسدين، وكان ذلك وعدًا لا بدَّ مِن وقوعه؛ لوجود سببه منهم.