سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الإسراء 17:37

17:37
ولا تمش في الارض مرحا انك لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولا ٣٧
وَلَا تَمْشِ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ ٱلْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ ٱلْجِبَالَ طُولًۭا ٣٧
وَلَا
تَمْشِ
فِی
الْاَرْضِ
مَرَحًا ۚ
اِنَّكَ
لَنْ
تَخْرِقَ
الْاَرْضَ
وَلَنْ
تَبْلُغَ
الْجِبَالَ
طُوْلًا
۟
اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکو گے اور نہ ہی پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکو گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 17:37 سے 17:38 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

Condemnation of strutting

Allah forbids His servants to strut and walk in a boastful manner:

وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا

(And walk not on the earth with conceit and arrogance.) meaning, walking in boastful manner and acting proud, like those who are arrogant oppressors.

إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الاٌّرْضَ

(Verily, you can neither rend nor penetrate the earth) means, you cannot penetrate the earth with your walking. This was the opinion of Ibn Jarir.