سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن الانسان کی تفسیر، آیت 30

76:30
وما تشاءون الا ان يشاء الله ان الله كان عليما حكيما ٣٠
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا ٣٠
وَمَا
تَشَآءُوْنَ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّشَآءَ
اللّٰهُ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
عَلِیْمًا
حَكِیْمًا
۟ۗۖ
اور تمہارے چاہے کچھ نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 76:23 سے 76:31 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔