سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الانسان 76:3

76:3
انا هديناه السبيل اما شاكرا واما كفورا ٣
إِنَّا هَدَيْنَـٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًۭا وَإِمَّا كَفُورًا ٣
اِنَّا
هَدَیْنٰهُ
السَّبِیْلَ
اِمَّا
شَاكِرًا
وَّاِمَّا
كَفُوْرًا
۟
ہم نے اس کو راہ سجھا دی اب چاہے تو وہ شکر گزار بن کر رہے چاہے ناشکرا ہوکر۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 3{ اِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ } ”ہم نے اس کو راہ سجھا دی“ اس سے مراد ”ایمان“ سے متعلق وہ شعور یا وہ ہدایت اور راہنمائی ہے جو ہر انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ یعنی انسان اندھا اور بہرہ پیدا نہیں ہوا ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور باطنی طور پر بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جسمانی حواس بھی دیے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اسے روح کی بصیرت بھی عطا کی ہے۔ { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ } ”اب چاہے تو وہ شکر گزار بن کر رہے ‘ چاہے ناشکرا ہوکر۔“ اب ظاہر ہے جس انداز اور طریقے سے انسان زندگی گزارے گا ‘ اسی کے مطابق آخرت میں اس کو بدلہ دیا جائے گا۔