سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الانسان 76:24

76:24
فاصبر لحكم ربك ولا تطع منهم اثما او كفورا ٢٤
فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ ءَاثِمًا أَوْ كَفُورًۭا ٢٤
فَاصْبِرْ
لِحُكْمِ
رَبِّكَ
وَلَا
تُطِعْ
مِنْهُمْ
اٰثِمًا
اَوْ
كَفُوْرًا
۟ۚ
تو آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا اور آپ ﷺ ان میں سے کسی گناہگار یا ناشکرے کی باتوں پر دھیان نہ دیجیے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 76:23 سے 76:31 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔