سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: الحجر آیہ 8

15:8
ما ننزل الملايكة الا بالحق وما كانوا اذا منظرين ٨
مَا نُنَزِّلُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَمَا كَانُوٓا۟ إِذًۭا مُّنظَرِينَ ٨
مَا
نُنَزِّلُ
الْمَلٰٓىِٕكَةَ
اِلَّا
بِالْحَقِّ
وَمَا
كَانُوْۤا
اِذًا
مُّنْظَرِیْنَ
۟
ہم نہیں اتارا کرتے فرشتوں کو مگر حق کے ساتھ اور (اگر فرشتے نازل ہوگئے تو) پھر انہیں مہلت نہیں دی جائے گی
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 8 مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ یعنی یہ لوگ فرشتوں کو بلانا چاہتے ہیں یا اپنی شامت کو ؟ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عاد وثمود اور قوم لوط پر فرشتے نازل ہوئے تو کس غرض سے نازل ہوئے ! انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ فرشتے جب کسی قوم پر نازل ہوتے ہیں تو آخری فیصلے کے نفاذ کے لیے نازل ہوتے ہیں۔