سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

فی ظلال القرآن الحجر کی تفسیر، آیت 21

15:21
وان من شيء الا عندنا خزاينه وما ننزله الا بقدر معلوم ٢١
وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٍۢ مَّعْلُومٍۢ ٢١
وَاِنْ
مِّنْ
شَیْءٍ
اِلَّا
عِنْدَنَا
خَزَآىِٕنُهٗ ؗ
وَمَا
نُنَزِّلُهٗۤ
اِلَّا
بِقَدَرٍ
مَّعْلُوْمٍ
۟
کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت نمبر 21

لہٰذا مخلوقات میں سے کوئی نوع بھی کسی چیز کی مالک نہیں ہے ، تمام خزانے اللہ کی حاکمیت میں ہیں ، اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہیں۔ اللہ اپنی مخلوق کے لئے جو خزانے چاہتا ہے ، ایک معلوم اور متعین مقدار کے مطابق اتارتا ہے ، کوئی چیز بھی آگ پر نازل نہیں ہوتی اور نہ کوئی چیز اتفاقاً وقوع پذیر ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ جن چیزوں کو ایک معلوم مقدار کے مطابق بھیجتا ہے ، ان میں سے ہوائیں اور بارشیں بھی ہیں۔