سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن الحجر کی تفسیر، آیت 15

15:15
لقالوا انما سكرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون ١٥
لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ ١٥
لَقَالُوْۤا
اِنَّمَا
سُكِّرَتْ
اَبْصَارُنَا
بَلْ
نَحْنُ
قَوْمٌ
مَّسْحُوْرُوْنَ
۟۠
تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 15:13 سے 15:15 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 13 لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ انبیاء و رسل کے مخاطبین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے۔ جس طرح ہم نے اپنے رسول محمد پر یہ ”الذکر“ نازل کیا ہے اسی طرح پہلے بھی ہم اپنے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کی قوموں کے لوگ اکثر انکار ہی کرتے رہے۔