سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحجر 15:11

15:11
وما ياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزيون ١١
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ١١
وَمَا
یَاْتِیْهِمْ
مِّنْ
رَّسُوْلٍ
اِلَّا
كَانُوْا
بِهٖ
یَسْتَهْزِءُوْنَ
۟
اور نہیں آیا ان کے پاس کوئی بھی رسول مگر وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے رہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 15:10 سے 15:11 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 10 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ شِیَع ‘ شِیْعَۃ کی جمع ہے اور اس کے معنی الگ ہو کر پھیلنے والے گروہ کے ہیں۔ جیسے حضرت نوح کے بیٹوں کی نسلیں بڑھتی گئیں تو ان کے قبیلے اور گروہ علیحدہ ہوتے گئے اور یوں تقسیم ہو ہو کر روئے زمین پر پھیلتے گئے۔ اردو الفاظ ”اشاعت“ اور ”شائع“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہیں ‘ چناچہ ان الفاظ میں بھی پھیلنے اور پھیلانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔