سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: البقرة 2:66

2:66
فجعلناها نكالا لما بين يديها وما خلفها وموعظة للمتقين ٦٦
فَجَعَلْنَـٰهَا نَكَـٰلًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ ٦٦
فَجَعَلْنٰهَا
نَكَالًا
لِّمَا
بَیْنَ
یَدَیْهَا
وَمَا
خَلْفَهَا
وَمَوْعِظَةً
لِّلْمُتَّقِیْنَ
۟
پھر ہم نے اس (واقعہ کو یا اس بستی) کو عبرت کا سامان بنا دیا ان کے لیے بھی جو سامنے موجود تھے (اس زمانے کے لوگ) اور ان کے لیے بھی جو بعد میں آنے والے تھے اور ایک نصیحت (اور سبق آموزی کی بات) بنا دیا اہل تقویٰ کے لیے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 2:65 سے 2:66 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ تمہیں خوب معلوم ہے کہ تم میں سے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے سبت کے قانون کو توڑا تھا اور حد سے تجاوز کیا تھا۔ یہود کی شریعت میں ہفتہ کا روز عبادت کے لیے معینّ کردیا گیا تھا اور اس روز دنیاوی کام کاج کی اجازت نہیں تھی۔ آج بھی جو مذہبی یہودی Practicing Jews ہیں وہ اس کی پابندی بڑی شدت سے کرتے ہیں۔ لیکن ایک زمانے میں ان کے ایک خاص قبیلے نے ایک شرعی حیلہ ایجاد کر کے اس قانون کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة الاعراف میں آئے گی۔فَقُلْنَا لَہُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِءِیْنَ “ ان کی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندروں کی صورت میں تبدیل کردیا گیا۔ تین دن کے بعد یہ سب مرگئے۔