سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Tazkirul Quran تفسیر: البقرة آیہ 55

2:55
واذ قلتم يا موسى لن نومن لك حتى نرى الله جهرة فاخذتكم الصاعقة وانتم تنظرون ٥٥
وَإِذْ قُلْتُمْ يَـٰمُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهْرَةًۭ فَأَخَذَتْكُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ ٥٥
وَاِذْ
قُلْتُمْ
یٰمُوْسٰی
لَنْ
نُّؤْمِنَ
لَكَ
حَتّٰی
نَرَی
اللّٰهَ
جَهْرَةً
فَاَخَذَتْكُمُ
الصّٰعِقَةُ
وَاَنْتُمْ
تَنْظُرُوْنَ
۟
اور یاد کرو جبکہ تم نے کہا تھا اے موسیٰ ؑ ! ہم تمہارا ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو تمہیں آپکڑا ایک بہت بڑی کڑک نے اور تم دیکھ رہے تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 2:53 سے 2:57 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

True piety is to worship God alone, to believe in Him though one has not seen Him, to live in fear of Judgement Day, to subsist on the pure things of the earth, to prevent whomsoever one can from falling into sin. It is those who adopt this way of life who will be successful in the next world.