سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر الأنفال کی تفسیر، آیت 56

8:56
الذين عاهدت منهم ثم ينقضون عهدهم في كل مرة وهم لا يتقون ٥٦
ٱلَّذِينَ عَـٰهَدتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِى كُلِّ مَرَّةٍۢ وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ ٥٦
اَلَّذِیْنَ
عٰهَدْتَّ
مِنْهُمْ
ثُمَّ
یَنْقُضُوْنَ
عَهْدَهُمْ
فِیْ
كُلِّ
مَرَّةٍ
وَّهُمْ
لَا
یَتَّقُوْنَ
۟
(خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تُو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 8:55 سے 8:57 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں ٭٭

زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آ جائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔

صفحہ نمبر3343