سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: الأنبياء آیہ 22

21:22
لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا فسبحان الله رب العرش عما يصفون ٢٢
لَوْ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ٢٢
لَوْ
كَانَ
فِیْهِمَاۤ
اٰلِهَةٌ
اِلَّا
اللّٰهُ
لَفَسَدَتَا ۚ
فَسُبْحٰنَ
اللّٰهِ
رَبِّ
الْعَرْشِ
عَمَّا
یَصِفُوْنَ
۟
اگر ان دونوں (زمین و آسمان) کے اندر اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتے تو لازماً یہ دونوں فساد سے بھر جاتے تو اللہ جو عرش کا مالک ہے وہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بناتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 21:21 سے 21:23 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

زمین بقیہ کائنات سے الگ نہیں ہے۔ وہ وسیع تر کائنات کے ساتھ مسلسل طورپر مربوط ہے۔ زمین پر زندگی اور سرسبزی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ بقیہ کائنات اس کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگی کرے۔ زمین و آسمان کا یہ متوافق عمل ثابت کرتاہے کہ زمین و آسمان کا انتظام ایک ہی ہستی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ دو کے ہاتھ میں ہوتا تو یقیناً دونوں کے درمیان بار بار ٹکراؤ ہوتا اور زمین پر موجودہ زندگی کا قیام ممکن نہ ہوتا۔

کائنات اپنی بے پناہ عظمت اور معنویت کے ساتھ اپنے جس خالق کا تعارف کراتی ہے وہ یقینی طورپر ایسا خدا ہے جو ہر قسم کی کمیوںسے یکسر پاک ہے۔ یہ موجودہ کائنات کا کمتر اندازہ ہے کہ اس کا خالق ایک ایسی ہستی کو مانا جائے جس کے ساتھ کمیاں اور کمزوریاں لگی ہوئی ہیں۔