سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: الأنبياء آیہ 19

21:19
وله من في السماوات والارض ومن عنده لا يستكبرون عن عبادته ولا يستحسرون ١٩
وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُۥ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ١٩
وَلَهٗ
مَنْ
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ؕ
وَمَنْ
عِنْدَهٗ
لَا
یَسْتَكْبِرُوْنَ
عَنْ
عِبَادَتِهٖ
وَلَا
یَسْتَحْسِرُوْنَ
۟ۚ
اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو (ملائکہ مقربین) اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر (کی بنا پر گریز) نہیں کرتے اور نہ ہی وہ سستی کرتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 21:19 سے 21:20 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

زمین وآسمان کی ہر چیز مخلوق ہے۔ ہر چیز وہی کرتی ہے جس کا اسے اوپر سے حکم دیاگیا ہو۔ ساری کائنات میں صرف انسان ہے جو سرکشی کرتاہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے وہ یہ کہہ کر سرکشی کرتے ہیں کہ ہمارے اوپر کوئی مالک اور حاکم نہیں۔ ہم آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں۔

جو لوگ خدا کو مانتے ہیں وہ بھی سرکشی کرتے ہیں۔ البتہ ان کے پاس اپنی سرکشی کی توجیہہ دوسری ہوتی ہے۔ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا شفیع اور وسیلہ مان لیتے ہیں۔ وہ کسی کو خدا کا مقرب مان کر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ہم ان کے لیے عقیدت و احترام کا اظہار کرتے رہیں تو وہ خدا کے یہاں ہمارے ليے نجات کی سفارش کردیں گے۔ کچھ لوگ فرشتوں کو اپنا شفیع اور وسلیہ مان لیتے ہیں اور کچھ لوگ کسی دوسری ہستی کو۔

مگر اس قسم کے تمام نظريے مضحکہ خیز حد تک باطل ہیں۔ اگر کسی کو وہ نگاہ حاصل ہو کہ وہ کائناتی سطح پر حقیقت کو دیکھ سکے تو وہ دیکھے گا کہ مفروضہ ہستیاں خود تو خداکی ہیبت سے اس کے آگے جھکی ہوئی ہیں اور انسان ان کے نام پر دنیا میں سرکش بنا ہوا ہے۔