سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن الأنبياء کی تفسیر، آیت 17

21:17
لو اردنا ان نتخذ لهوا لاتخذناه من لدنا ان كنا فاعلين ١٧
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًۭا لَّٱتَّخَذْنَـٰهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـٰعِلِينَ ١٧
لَوْ
اَرَدْنَاۤ
اَنْ
نَّتَّخِذَ
لَهْوًا
لَّاتَّخَذْنٰهُ
مِنْ
لَّدُنَّاۤ ۖۗ
اِنْ
كُنَّا
فٰعِلِیْنَ
۟
اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کر لیتے۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 21:16 سے 21:17 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 16 وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ ”یعنی ہم نے یہ دنیا کھیل تماشے اور شغل کے لیے نہیں بنائی ہے۔ ہماری ہر تخلیق بامقصد اور اٹل قوانین پر مبنی ہے۔ اسی طرح دنیا میں قوموں کے عروج وزوال کے بارے میں بھیُ ”سنتّ اللہ“ اور قواعد و ضوابط بالکل غیرمبدلّ اور ناقابل تغیر ہیں۔