سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: الأنعام آیہ 88

6:88
ذالك هدى الله يهدي به من يشاء من عباده ولو اشركوا لحبط عنهم ما كانوا يعملون ٨٨
ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا۟ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٨٨
ذٰلِكَ
هُدَی
اللّٰهِ
یَهْدِیْ
بِهٖ
مَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ ؕ
وَلَوْ
اَشْرَكُوْا
لَحَبِطَ
عَنْهُمْ
مَّا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
یہ اللہ کی وہ ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ راہنمائی فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے۔ اور اگر (بالفرض) وہ بھی شرک کرتے تو ان کے بھی سارے اعمال ضائع ہوجاتے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 88 ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖط وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔یہ انداز ہمیں سمجھانے کی غرض سے اختیار کیا گیا ہے کہ شرک کتنی بری شے ہے۔ ورنہ اس کا کوئی امکان نہیں تھا کہ ایسے اعلیٰ مراتب پر فائز اللہ کے عظیم الشان انبیاء و رسل شرک میں مبتلا ہوتے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک ناقابل معافی جرم ہے ‘ جس کے بارے میں سورة النساء میں دو مرتبہ یہ الفاظ آ چکے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ج آیت 48 و 116