سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنعام 6:81

6:81
وكيف اخاف ما اشركتم ولا تخافون انكم اشركتم بالله ما لم ينزل به عليكم سلطانا فاي الفريقين احق بالامن ان كنتم تعلمون ٨١
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَـٰنًۭا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ٨١
وَكَیْفَ
اَخَافُ
مَاۤ
اَشْرَكْتُمْ
وَلَا
تَخَافُوْنَ
اَنَّكُمْ
اَشْرَكْتُمْ
بِاللّٰهِ
مَا
لَمْ
یُنَزِّلْ
بِهٖ
عَلَیْكُمْ
سُلْطٰنًا ؕ
فَاَیُّ
الْفَرِیْقَیْنِ
اَحَقُّ
بِالْاَمْنِ ۚ
اِنْ
كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
۟ۘ
اور میں کیسے ڈروں ان سے جنہیں تم نے شریک ٹھہرا رکھا ہے جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا لیے ہیں جن کے لیے اللہ نے تم پر کوئی سند نہیں اتاری تو (ہم دونوں) فریقین میں سے کون امن کا زیادہ حق دار ہے ؟ اگر تم علم رکھتے ہو تو (بتاؤ !)
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 81 وَکَیْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا ط۔اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شراکت کی کوئی سند موجود ہی نہیں۔ نہ عقل اور فطرت میں اس کی کوئی بنیاد ہے نہ کسی آسمانی کتاب میں کسی دوسرے معبود کے لیے کوئی گنجائش ہے۔فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بالْاَمْنِج اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یعنی ایک شخص موحد ہے ‘ ایک اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ ساری کائنات کا بلا شرکت غیرے مالک ہے ‘ ہر شے اس کے قبضہ قدرت میں ہے ‘ جبکہ دوسرا وہ ہے جو اللہ کو ماننے کے ساتھ ساتھ اس کے اقتدار و اختیار میں بعض دوسری ہستیوں کو بھی شریک سمجھتا ہے ‘ کچھ چھوٹے معبودوں اور دیوی دیوتاؤں کو بھی مانتا ہے۔ تو اب ذرا بتاؤ کہ امن ‘ چین ‘ روحانی اطمینان اور حقیقی سکون قلب کا زیادہ حق دار ان دونوں میں سے کون ہوگا ؟ سوال کرنے کے بعد اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا :