سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: الأنعام آیہ 78

6:78
فلما راى الشمس بازغة قال هاذا ربي هاذا اكبر فلما افلت قال يا قوم اني بريء مما تشركون ٧٨
فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمْسَ بَازِغَةًۭ قَالَ هَـٰذَا رَبِّى هَـٰذَآ أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّآ أَفَلَتْ قَالَ يَـٰقَوْمِ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ٧٨
فَلَمَّا
رَاَ
الشَّمْسَ
بَازِغَةً
قَالَ
هٰذَا
رَبِّیْ
هٰذَاۤ
اَكْبَرُ ۚ
فَلَمَّاۤ
اَفَلَتْ
قَالَ
یٰقَوْمِ
اِنِّیْ
بَرِیْٓءٌ
مِّمَّا
تُشْرِكُوْنَ
۟
پھر جب دیکھا سورج کو بہت چمکدار تو کہنے لگے ہاں یہ ہے میرا ربّ یہ سب سے بڑا ہے ! پھر جب وہ بھی غائب ہوگیا تو انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! میں اعلان براءت کرتا ہوں ان سب سے جنہیں تم شریک ٹھہرا رہے ہو۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 6:77 سے 6:79 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔