سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنعام 6:66

6:66
وكذب به قومك وهو الحق قل لست عليكم بوكيل ٦٦
وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوْمُكَ وَهُوَ ٱلْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍۢ ٦٦
وَكَذَّبَ
بِهٖ
قَوْمُكَ
وَهُوَ
الْحَقُّ ؕ
قُلْ
لَّسْتُ
عَلَیْكُمْ
بِوَكِیْلٍ
۟ؕ
اور (اے نبی ﷺ آپ کی قوم نے اسے جھٹلا دیا حالانکہ وہ حق ہے (ان سے) کہہ دیجیے کہ (اب) میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 66 وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَہُوَ الْحَقُّ ط۔یہاں بِہٖ سے مراد قرآن ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ‘ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا ‘ محمد رسول اللہ ﷺ کا اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اسی لیے اس مضمون کی تفصیل میں بِہٖکی تکرار کثرت سے ملے گی۔قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ۔اب میں نہیں کہہ سکتا کہ کب اللہ کے عذاب کا دروازہ کھل جائے اور عذاب ہلاکت تم پر ٹوٹ پڑے۔