سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Tazkirul Quran تفسیر: الأنعام آیہ 59

6:59
۞ وعنده مفاتح الغيب لا يعلمها الا هو ويعلم ما في البر والبحر وما تسقط من ورقة الا يعلمها ولا حبة في ظلمات الارض ولا رطب ولا يابس الا في كتاب مبين ٥٩
۞ وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍۢ فِى ظُلُمَـٰتِ ٱلْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍۢ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍۢ ٥٩
وَعِنْدَهٗ
مَفَاتِحُ
الْغَیْبِ
لَا
یَعْلَمُهَاۤ
اِلَّا
هُوَ ؕ
وَیَعْلَمُ
مَا
فِی
الْبَرِّ
وَالْبَحْرِ ؕ
وَمَا
تَسْقُطُ
مِنْ
وَّرَقَةٍ
اِلَّا
یَعْلَمُهَا
وَلَا
حَبَّةٍ
فِیْ
ظُلُمٰتِ
الْاَرْضِ
وَلَا
رَطْبٍ
وَّلَا
یَابِسٍ
اِلَّا
فِیْ
كِتٰبٍ
مُّبِیْنٍ
۟
اوراُسی کے پاس غیب کے سارے خزانے ہیں کوئی نہیں جانتا ان (خزانوں) کو سوائے اس کے اور وہ جانتا ہے جو کچھ ہے خشکی میں اور سمندر میں اور نہیں گرتا کوئی ایک پتا بھی (کسی درخت سے) مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے اور نہیں (گرتا) کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں اور نہ کوئی ترو تازہ اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر ایک کتاب مبین میں (سب کی سب) موجود ہیں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 6:58 سے 6:59 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

The present world is one of test and trial. Therefore, what is truly significant here is not the material conditions in which a man lives, but whether he is taking a stand on the rationale of truth or on suppositions and false hopes. In the final analysis, only that person will be successful who takes a stand on the real rationale of Truth. The people who rely on suppositions in this world of God will be ultimately reduced to a state of utter helplessness. How could the final fate of the world, which is functioning under the strict control of the Almighty, become relegated to an abyss of false hopes?