سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Tazkirul Quran تفسیر: الأنعام آیہ 50

6:50
قل لا اقول لكم عندي خزاين الله ولا اعلم الغيب ولا اقول لكم اني ملك ان اتبع الا ما يوحى الي قل هل يستوي الاعمى والبصير افلا تتفكرون ٥٠
قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ ٥٠
قُلْ
لَّاۤ
اَقُوْلُ
لَكُمْ
عِنْدِیْ
خَزَآىِٕنُ
اللّٰهِ
وَلَاۤ
اَعْلَمُ
الْغَیْبَ
وَلَاۤ
اَقُوْلُ
لَكُمْ
اِنِّیْ
مَلَكٌ ۚ
اِنْ
اَتَّبِعُ
اِلَّا
مَا
یُوْحٰۤی
اِلَیَّ ؕ
قُلْ
هَلْ
یَسْتَوِی
الْاَعْمٰی
وَالْبَصِیْرُ ؕ
اَفَلَا
تَتَفَكَّرُوْنَ
۟۠
(اے نبی ﷺ ان سے) کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے اختیار میں ہیں اللہ کے خزانے اور نہ (میں نے دعویٰ کیا ہے کہ) مجھے غیب کا علم حاصل ہے اور نہ میں نے (کبھی) یہ کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں میں تو بس اتباع کر رہا ہوں اس شے کیا جو میری طرف وحی کی جاتی ہے کہیے تو کیا اب برابر ہوجائیں گے اندھے اور دیکھنے والے ؟ تو کیا تم غور و فکر سے کام نہیں لیتے ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 6:48 سے 6:50 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

The preacher of God’s word appears in the world not only as one who gives good news, but also as a warner. In other words, the basis on which a man is tested before God is that he should recognise the Truth conveyed in the language of admonition and reform himself accordingly. If he fails to recognise the Truth and demands magic feats and charms as a condition for acceptance, he merely proves his moral blindness; and for such blind people, there is no fate but havoc and destruction in this world of God.