در حقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آچکی ہوگی،1 ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، وہ تو ہیں ہی جھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے)
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
ليس الأمر كذلك، بل ظهر لهم يوم القيامة ما كانوا يعلمونه من أنفسهم من صدق ما جاءت به الرسل في الدنيا، وإن كانوا يظهرون لأتباعه خلافه. ولو فرض أن أعيدوا إلى الدنيا فأمهلوا لرجعوا إلى العناد بالكفر والتكذيب. وإنهم لكاذبون في قولهم: لو رددنا إلى الدنيا لم نكذب بآيات ربنا، وكنا من المؤمنين.