ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา
11:122
وانتظروا انا منتظرون ١٢٢
وَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ ١٢٢
وَٱنتَظِرُوٓاْ
إِنَّا
مُنتَظِرُونَ
١٢٢
[122] และพวกท่านจงคอยดูเถิด แท้จริงเราก็เป็นผู้คอยดู
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ
คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 11:120 ถึง 11:123

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔

مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔

ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔