ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา

ตัฟซีร: Ash-Shuraa 42:52

42:52
وكذالك اوحينا اليك روحا من امرنا ما كنت تدري ما الكتاب ولا الايمان ولاكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا وانك لتهدي الى صراط مستقيم ٥٢
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحًۭا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِى مَا ٱلْكِتَـٰبُ وَلَا ٱلْإِيمَـٰنُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَـٰهُ نُورًۭا نَّهْدِى بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ٥٢
وَكَذَٰلِكَ
أَوۡحَيۡنَآ
إِلَيۡكَ
رُوحٗا
مِّنۡ
أَمۡرِنَاۚ
مَا
كُنتَ
تَدۡرِي
مَا
ٱلۡكِتَٰبُ
وَلَا
ٱلۡإِيمَٰنُ
وَلَٰكِن
جَعَلۡنَٰهُ
نُورٗا
نَّهۡدِي
بِهِۦ
مَن
نَّشَآءُ
مِنۡ
عِبَادِنَاۚ
وَإِنَّكَ
لَتَهۡدِيٓ
إِلَىٰ
صِرَٰطٖ
مُّسۡتَقِيمٖ
٥٢
[52] และเช่นนั้นแหละเราได้วะฮียฺอัลกุรอาน แก่เจ้าตามบัญชาของเรา เจ้าไม่เคยรู้มาก่อนเลยว่าอะไรคือคัมภีร์ และอะไรคือการศรัทธาแต่ว่าเราได้ทำให้อัลกุรอานเป็นแสงสว่างเพื่อชี้แนะทางโดยนัยนั้นแก่ผู้ที่เราประสงค์จากปวงบ่าวของเรา และแท้จริงเจ้านั้นจะได้รับการชี้แนะสู่ทางอันเที่ยงธรรมอย่างแน่นอน
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ
คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 42:52 ถึง 42:53
قرآن کو بذریعہ وحی اتارا ٭٭

روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا، لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایماندار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ» ‏ [ 41- فصلت: 44 ] ‏ کہدے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔

صفحہ نمبر8194